ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹکا میں ضمنی چناؤ کے نتائج کے بعد سدرامیا کابینہ میں توسیع کا امکان

کرناٹکا میں ضمنی چناؤ کے نتائج کے بعد سدرامیا کابینہ میں توسیع کا امکان

Wed, 12 Apr 2017 14:01:48    S.O. News Service

بنگلورو۔11؍اپریل(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیانے کہاکہ ننجنگڈھ اور گنڈل پیٹ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے فوراً بعد ریاستی کابینہ میں توسیع کی جائے گی۔ بتایاجاتاہے کہ وزیر اعلیٰ سدرامیا کابینہ کی اس توسیع کے مرحلے میں قدیم میسور کے کسی ایک رکن اسمبلی اور شمالی کرناٹک کے ایک رکن اسمبلی کو کابینہ کا حصہ بنانے پر غور کررہے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے کانگریس اعلیٰ کمان سے بھی بات چیت کی ہے، اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کیلئے کانگریس کو مستعد کرنے اور ذات پات کی بنیاد پر کابینہ میں نمائندگی یقینی بنانے کیلئے سدرامیا آنجہانی وزیر ایچ ایس مہادیو پرساد کی جگہ میسور علاقہ کے ہی کسی لنگایت لیڈر کو کابینہ میں جگہ دینے کیلئے پوری تیاری میں ہیں۔ قدیم میسور علاقہ میں لنگایت فرقہ سے وابستہ اراکین اسمبلی زیادہ تر کانگریس میں نہیں ہیں، گنڈل پیٹ اسمبلی حلقہ سے اگر مہادیو پرساد کی بیوہ ڈاکٹر گیتا پرساد کامیاب ہوتی ہیں تو توقع ہے کہ انہیں وز ارت کا حصہ بنایا جائے گا۔ آنجہانی مہادیو پرساد قدیم میسور علاقہ کے ایک طاقتور لنگایت لیڈر رہے ہیں ، ان کی ناگہانی موت کے سبب یہاں ضمنی چناؤ ناگزیر ہوا۔ شمالی کرناٹک کے ایک وزیر ایچ وائی میٹی کو پچھلے دنوں جنسی اسکینڈل بے نقاب ہونے کے بعد سدرامیا نے وزارت سے برطرف کردیاتھا، ان کی جگہ پر اب بی بی چمن کٹی کو وزارت میں شامل کئے جانے کی توقع ظاہر کی جارہی تھی، لیکن ان کی صحت میں خرابی کے سبب سدرامیا ایچ وائی میٹی کو ہی دوبارہ جگہ دینے پر بھی غور کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ کے پی سی سی کے موجودہ صدر ڈاکٹر جی پرمیشور کی جگہ پر شمالی کرناٹک کے کسی مضبوط لنگایت لیڈر کو کے پی سی سی صدارت دینے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے غور کیاجارہاہے۔


ضمنی چناؤ کے نتائج پر مرکزی اور ریاستی انٹیلی جنس کے متضاد دعوے
 گنڈل پیٹ اور ننجنگڈھ اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی 13اپریل کو متعلقہ اضلاع میں کی جارہی ہے،لیکن ابھی سے سیاسی حلقوں میں ہار اور جیت کا حساب کتاب لگایا جارہاہے۔ ریاستی انٹیلی جنس ایجنسی نے یہ رپورٹ دی ہے کہ دونوں حلقوں میں کانگریس کی جیت ہوگی، لیکن مرکزی خفیہ ایجنسی اور بی جے پی کے بوتھ ایجنٹوں کا دعویٰ ہے کہ دونوں حلقوں میں بی جے پی امیدواروں کی جیت یقینی ہے، دونوں میں کونسی رپورٹ سچی ہے یہ جاننے کیلئے 13اپریل تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔ ضمنی انتخابات کا نتیجہ جو بھی ہو سیاسی حلقوں میں کہاجارہاہے کہ یہ آنے والے دنوں کی سیاسی تبدیلیوں کا نقیب ثابت ہوگا۔ دونوں حلقوں میں اگر کانگریس کی جیت ہوئی تو وزیر اعلیٰ سدرامیا کانگریس کے ایک بہت مضبوط قائد کے طور پر ابھریں گے، اگر کانگریس ہار گئی تو سدرامیا کی ساکھ کو ان نتائج سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ساتھ ہی ریاستی کانگریس یونٹ اور کابینہ میں بھی سدرامیا کو اعلیٰ کمان کی ہدایت کے مطابق تبدیلی کرنی پڑ سکتی ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ دونوں حلقوں میں اگر کانگریس کو ہار کا منہ دیکھنا پڑا تو سدرامیا کی سیاسی طاقت اور کانگریس میں ان کے حامیوں کی تعداد میں غیر معمولی کمی آسکتی ہے اور ساتھ ہی اس نتیجہ کے بعد ریاستی کانگریس میں داخلی خلفشار میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوسکتاہے۔


Share: